حضرت شیخ الحدیث ؒ بحیثیت مصلح قوم وملت

اللہ تعالی نے انسان کی رشدوہدایت کیلئے انبیاء اور رسل مبعوث کئے جب خاتم الانبیاء کے وصل الی اللہ ہونے کے بعد رشد وہدایت کے فرائض کو انجام دہی کی ضرورت ہوگی یاپھر پوری دنیا جہالت کے دلدل میں چھوڑ دیا جائیگا یاپھر اس کی ضرور ت ہی باقی نہیں رہے گی ۔
ابھی انسان کے دماغ میں اس قسم کے سوالات پیدا نہیں ہوئے تھے کہ مخبر صادق محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’العلماء ورثۃ الانبیاء ‘‘ انبیاء اور رسل کے سچے جانشین امت کے متقی، پرہیزگار ،اہل علم ہیں ۔علماء کا لفظ کن لوگوں پر صادق آتا ہے جب اس لفظ کی اچھی طرح جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ لفظ مطلق اہل علم ،دینی رہنماء اور صوفیاء وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔العلماء ورثۃ الانبیاء کا درست مطلب یہ ہوتا ہیکہ اللہ سے ڈرنے والے دینی رہنما اور اخلاص وللہیت کے پیکر صوفیاء انبیاء ورسل کے سچے جانشین ہیں .اور اہل علم ،دانشوروں اور فقھائے کرام نے بھی ان ہی حضرات کو اس امر کا مستحق قرار دیا ہے ۔
حضرت شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ کے ایک جید باعمل عالم دین اور حضرت العلامۃ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری صاحب قد س سرہ العزیزکے دست حق پر بیعت وخلافت سلوک طئے کرکے اصفیاء کی صف میں آکھڑے ہوئے .ہردو طریقہ سے حضرت شیخ الحدیث العلماء ورثۃ الانبیاء کے بشارت کے مستحق ہیں حضرت شیخ الحدیث نے صرف بشارت حاصل کر کے گوشہ نشیں نہیں ہوئے بلکہ عملی میدان میں وہ طریقہ اختیارکیا جو انبیاء ورسل کا ہوتا ہے ۔
انہوں نے عوام کی رشد وہدایت کیلئے درس وتدریس ،وعظ ونصیحت ،تصنیف وتالیف ہروہ طریقہ استعمال کیا ۔درس وتدریس دکن کی اسلامی مقبول خاص وعام جامعہ نظامیہ میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے جب انھیں لگاکے مرکز اپنی کوشش کررہاہے اس سے ہٹ کر بھی طلبہ کو نہ خواندگی سے خواندگی کی طرف لانے کے لئے المعھد الدینی العربی کاقیام عمل میںآیا۔
وقتا وضرورتا اس ادارہ کو ترقی دیتے رہے او رضرورت محسوس ہونے پر شہرواطراف شہرمیں کئ ایک ادارے کی شاخیں قائم کی ۔پہلے یہ کوشش صرف لڑکوں کیلئے کی گئ تھی جب انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ لڑکیوں کو بھی دینی تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورتہے تو انہوں نے لڑکیوں کیلئے بھی ایک مدرسہ بنام معھد نفیس النساء بیگم عمل میں لایا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک لڑکی اصل میں وہ ایک خاندان ہے اس کی اصلاح ایک خاندان کی اصلاح ہے حضرت شیخ الحد یث نے اپنے رشدوہدایت کے دائرہ کو مدارس تک ہی محدود نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کابھی پوراپورا خیال رکھا جن کے پاس وقت کی تنگی ہو تی ہے تلاش معاش میں منہمک رہتے ہیں ایسے لوگوں کی اصلاح کیلئے انہوں نے واعظ ونصیحت کے ذریعہ ان لوگوں کی اصلاح کی کبھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تو کبھی جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرکے تو کبھی درس قرآن دیکر تو کبھی درس حدیث دیکر تو کبھی جنت کی خوش حال ابدی زندگی بیان کرکے تو کبھی دوزخ کی پرحول سزائیں بتاکر لوگوں اور طلبہ ،مریدین ،معتقدین اور اہل خاندان سب کی اصلاح کی سونچی ۔
حضرت شیخ الحدیث کی نظر جب طلبہ پر پڑی تو انہیں خیال آیا کہ ہر ایک طالب علم کی فہم اتنی گہری اوروسیع کہاں کہ وہ کتاب وحدیث کے معنی ومفاہیم اسمائے رجال اوراصول حدیث کو سمجھ سکے توانہوں نے ان طلبہ کی خاطر اصول حدیث پر ثروۃ القاری من انوارالبخاری اور اسمائے رجال پر امام اعظم امام المحدثین لکھ کر طلبہ کوبتایا کہ امام اعظم کن کن راویانِ حدیث سے ملاقات کی اور کون کون سی حدیث سنی اور سنائیں بتایا ۔
حضرت شیخ الحدیث کی عربی دانی ایسی کہ عرب علماء بھی تعریف کئے بغیر نہیں رہتے تھے عربی دانی اور اصول حدیث اوراسماء رجال پر اچھی نظر ہونے کا پوراپورا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ایک ٹیم لیکر حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی صاحب رحمہ اللہ کی تالیف زجاجۃ المصابیح کا ترجمہ جو حضرت علامۃ مولاناحاجی منیر الدین صاحب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ وخطیب مکہ مسجد کیا کرتے تھے رکاہوا تھا توانہوں نے اس کام کا اسی انداز میں پھر سے احیاء کیا اور اللہ کا فضل ایسا ہواکہ وہ زجاجۃ المصابیح جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ احناف پر صدیوں سے ایک قرض تھا جس کو سید عبد اللہ شاہ نقشبندی صاحب حیدرآباد ی نے زجاجۃالمصابیح لکھ کر اتار دیا ترجمہ بامحاورہ سلیس اور بہترین مکمل کیا ۔
یہ ایک حضرت شیخ الحدیث کا ایسا کام ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائیگا اگر میں ایسے کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ترجمہ حضرت شیخ الحدیث کا کارنامہ حیات ہے .بخشش ونجات کا عند اللہ ذریعہ ہے اسی کام کی وجہ سے محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ کو آب حیات ملا ہمارے درمیان ان کا جسم نہیں بلکہ ان کاعلم ان کی سوچ آج بھی ہمارے درمیان ہے اورانشاء اللہ رہے گی ۔
حضرت شیخ الحدیث ؒ نے کئی ایک کو اپنے حلقہ ارادت میں لیکر اصلاح کی ماہانہ انکی اصلاح او ر مدارج وسلوک کی ترقی کیلئے حلقہ یعنی تصوف کی تعلیم کا اہتمام کراتے جن میں سینکڑوں مریدین ،معتقدین اس حلقہ میں شرکت کرکے اپنی روح ودل کو دنیا کی لذت او رگندگی سے صاف کرتے ۔
حضرت شیخ الحدیث نے اپنی بساط کے مطابق معاشرہ میں علم کی ترقی ،لوگوں میں ایمانداری عورتوں کی عزت و عصمت کے تحفظ ،کمزوروں اور یتیموں کے حقوق بچانے ،بچو ں کو کھیل کود سے ہٹاکر علم کی طر ف لانے بڑوں میں شفقت کا احساس پیدا کرنے ،کاروبار محنت وایمانداری سے کرنے ،والد وسرپرست کو حلال کمانے کی تلقین ونصیحت میں ساری عمر گزاردی ۔
وہ چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ظلم وزیادتی اورنا خواندگی ختم ہوجائے انسان ایک دوسرے کی قدر کرے علم کی شمع کو ہمیشہ جلائے رکھے .اپنے مریدین ،شاگردوں ،معتقدین اور دوست واحباب کو بھی اسی بات کی تلقین کرتے رہتے تھے کہ اہل علم طبقہ کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کی اصلاح وترقی کے بارے میں فکر کریں او ربطور خاص ان کے حفاظ وعلماء شاگردوں سے مخاطب ہوتے تھے کہ آپ لوگ اپنی تعلیمی فکر سے عوام کی اصلاح او رمعاشرہ کوبہتر بنانے کیلئے ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے ۔اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہمارے وہ طلبہ جو اضلاع او ر دیگر ریاستوں سے تعلیم حاصل کرنے آئیں وہ اپنے اپنے مقام پر جاکر ضرور ایک ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالیں جس سے تعلیمی ترقی او رمعاشرہ کی اصلاح دونوں بھی ہوجاتی ہیں .یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کیونکہ آپ لوگوں نے ہمارے یہاں جامعہ نظامیہ میں ۸سال ۹سال تعلیم کس لئے حاصل کئے اس کا مقصد کیاہے ؟ اس کا مقصد لوگوں کی بھلائی معاشرے کی اصلاح وہ اس بات سے قطعاً متفق نہیں ہوتے تھے کہ اصلاح معاشرہ کے نام سے ایک پوری رات جلسہ کرلئے او رخاموش ہوگئے بلکہ وہ کہتے تھے کہ بڑا کام ضرور ی نہیں چھوٹا ہی کریں لیکن مداومت ہونی چاہئے یاپھر یوں جیسے علامہ اقبال اس طرح کہتے ۔
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں یہ ہے مردوں کی شمشیریں
شیخ الحدیث کے بارے میں اکثروں نے یہ لکھا او رخوب کہا ہے کہ وہ اپنی آپ میں ایک انجمن تھے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے نئی بات او راصل بات تویہ کہ حضرت شیخ الحدیث ہر طالب علم کو یہ کہتے تھے کہ آپ صرف عالم ’’لا کے زیر ‘‘کے ساتھ نہیں بلکہ ’’لام کے زبر‘‘ کے ساتھ ہے یعنی ایک دنیا ہے او راس کااحساس طلبہ کامل کی وداعی تقریب میں محسوس ہوتا ہے ہر سا ل ہر ایک طالب علم کو یہ ہی نصیحت کرتے کہ آپ اپنے شہر ،گاؤں ،ریاست میں مدرسہ کی بنیاد ڈالو دارالاقامہ ہونا ضروری نہیں مسائیہ او رصباحیہ بھی بہت کافی ہے اگر پابندی سے کام کیا جائے ۔
اس طرح حضرت شیخ الحدیث نے اصلاح کے کام کو اپنی ذات تک محدود نہیں کیا بلکہ اپنے ہر شاگرد کو ایساتیا ر کیا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق قوم وملت کی اصلاح کرے او رحضرت شیخ الحدیث کہتے بھی تھے کہ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ ہمارے طلبہ
اپنے اپنے مقام پر مدرسہ کی بنیاد ڈالے کام کررہے ہیں ۔ اس طرح سے حضرت شیخ الحدیث نے قوم ملت کی اصلاح ایک مضبوط تحریک میں تبدیل کردیا ۔
آج پورے ہندوستان بھر کے 29ریاستوں میں جہاں پربھی جامعہ نظامیہ کا طالب علم لوگوں کی اصلاح کرتے ،مدرسہ قائم کرتے، درس وتدریس کرتے ،تصنیف وتالیف کرتے نظر آتا ہے وہ بالواسطہ یابلاواسطہ حضرت شیخ الحدیث کی اصلاحی تحریک کا ایک حصہ مانا جاتا ہے ایسی قد او ربلند مرتبہ ،سراج انجمن ،مصلح قوم ملت اپنے زندگی کا مقصد اداکرکے اپنے مالک حقیقی کے پاس جزا حاصل کرنے چلا گئی انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
ایک ساز حیات کا نغمہ سرزمین دکن سے چھوٹ گیا
پھول کھلتے تھے جس کے سائے میں وہ تنا ور درخت ٹوٹ گیا (وقار خلیل )
از : ابن حیدر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.