حضرت شیخ الحدیث بحیثیت شارح قصیدۃ البردۃ

الحمد لله  والصّلوة علیٰ رسوله وعلی آله صحبه وعلماء امته اما بعد :

چند کلمات ونگارشات او رابتدائی تذکار حضرت بایجازِ کلمات لکھنے کی سعادت حاصل کررہاہوں ۔حضرت شیخ الحدیث قبلہ ایک مکمل خداترس بزرگ تھے حضرت کی پوری زندگی اللہ ورسول کی رضا مندی میں گزری انہوں نے منشأحق کے تحت اپنی زندگی کو ڈھالا حضرت قبلہ ایک بہترین استاذ ،شریعت کے پابند ،پیکر سنت اکابر وشیوخ ،اساتذہ وطلبہ وخادمینِ مدارس وملت کے حسب درجات قدردان تھے ۔ہمیشہ حضرت میں شفقت وخیر خواہی کا پہلو غالب تھا حدیث پاک کے مصداق خیار عباد اللہ الذین اذا رؤوا ذکر اللہ (اللہ کے نیک بندے جن کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے)کے مصداق تھے طلبہ او رمعتقدین کی ذہنی،اخلاقی ،جسمانی ،مذہبی اور سماجی ومعاشرتی نشؤونما مناسب طو ر پر فرماتے تھے ،حضرت سے جو بھی ملاقات کرتا تو صرف اس کی محبت میں اضافہ ہو جاتاہے یہ یقیناًفیضان مصطفی ہیکہ من خالطہ أحبّہ (جو حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتا وہ حضور کو چاہنے لگتا )۔
دوسروں کی سہولت وہ خیر خواہی کیلئے آپ گھنٹوں گزارتے بلکہ کئی کئی دن اس کی تکمیل کیلئے وقت نکالتے جس وقت راقم الحروف جماعت عالم سندی کا طالب علم تھا (1995ء)اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بیمار طالب علم کو سائکل پر اس کو دواخانہ لے جاتے پھر اس کو جامعہ میں چھوڑ کر جاتے اس طرح کا سلسلہ سالوں تک رہا جب کسی طالب علم کو جنات کے اثرات ہوتے آپ جامعہ کو آتے او راس کا روحانی علاج بھی فرماتے حضرت اپنی ذات میں انجمن تھے ۔
بہت لگتا ہے جی صحبت میں انکی وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں
حضرت میں حد درجہ بردباری تھی بالمؤمنین رؤوف رحیم کے فیوض وبرکات کے حامل تھے سخت سے سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی آپ نہایت دھیمی انداز سے مسکراتے ہوئے ٹھنڈے طریقے سے بات کرتے ۔
طبیعت میں ہر وقت باغ وبہا رتھی عالی حوصلہ ،فراخ چشم ،فیاض ،متحمل وبردبار ،متواضع النفس ذکر ،واذکار کے پا بند ،سچے عاشق رسول تھے ،درس نظامی کے ہر فن میں مہارت تھی آپ کی تدریس سے سبحان اللہ ہر طالب علم سیر حاصل مستفید ہوتا غرض کر حضرت کی کن کن
خوبیوں کو ذکر کریں سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کیلئے ۔
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ہر تصنیف مایہ ناز حیثیت رکھتی ہے ’’ثروۃ القاری من انوار البخاری ‘‘سے حضرت کا ہر شاگرد واقف ہے کہ بخاری شریف کے ابتدائی احادیث مبارکہ کی اس طرح تشریح فرمائی ہے کہ دیگر تمام شروحات سے آپ کی شرح بے نیاز کردے بلکہ نخبۃ الفکر پڑھنے سے پہلے اگر طلبہ مقدمہ ثروۃ القاری پڑھلیں تو نخبۃ الفکر آسانی سے سمجھ میں آئیگی ۔
بالکل اسی طرح آپ کی ایک مایہ ناز ومعرکۃ الآرا ء تصنیف شرح قصیدہ بردۂ شریف منظر عام پر آنے والی ہے اس تصنیف لطیف کے کیا کہنے ؟ حضرت کی یہ دیرینہ تمنا تھی کہ ایسی شرح قصیدۃ بردۂ شریف کی لکھی جائے جو اپنے آپ میں ممتاز ہو راقم الحروف کو ابتدائی فصول کے اشعار کا ترجمہ وشرح پڑھنے کا شرف حاصل ہواہے ۔حضرت نے اس مبارک شرح میں بڑی جامعیت سے کام لیا ۔پہلے اشعار کا سلیس عام فہم ترجمہ ،درست اعراب ،لفظ بلفظ تحقیق،صرفی ونحوی قواعد،بلاغی اصول ،علم البیان ،علم المعانی ،وعلم البدیع کے قواعد وتشریح جگہ جگہ فرمائی .مثلاً تشبیہات کی اقسام : مثلاًتشبیہ مرسل،ومؤکد ،مجمل ومفصل ،بلیغ ،تمثیل ،بلیغ ،ضمنی ،مقلوب ،استعارۃ ،کی قسمیں ایجاز،اطناب ،محسنات لفظیہ ،محسنات معنویہ ،مراعاۃ النظیر مقابلہ جیسے اہم قواعد کا ذکر فرمایاہے باریک سے باریک علمی نکات کا احاطہ فرمایاہے خصوصا فارغینِ جامعہ نظامیہ کیلئے یہ شرح بیش بہا تحفہ ہے ،اس کا گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کیاجائے تو ہر ایک کی صلاحیت مستحکم ہوجائے پندونصائح وواقعات سے بھر پو رشرح ہے کیونہ ہو؟ سید الأنبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کی مدح مبارک میں لکھے گئے اشعا رکی شرح ہے لکھنے والے سچے عاشق رسول ہیں شرح پڑھنے کے بعد معلو م ہوگا کہ حضرت نے گویا سمند رکو کوزے میں بھر دیا ہے ۔اخری وقت تک بھی شرح کی تکمیل میں مصروف تھے۔
حضرت کے نواسہ داماد مولانا طاہر خان صاحب فرماتے ہیں :کہ آخری وقت ہاتھ پیر کی حرکت بند ہوگئی تھی موصوف نے قصیدۃبردۂ شریف کی مکمل رکا ڈنگ لگادی جس وقت یہ شعر آیا
کم أبرات وصبابالّلمس راحتہ وأطلقت اربا من ربقۃ الّلمم
کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت کا دایاں ہاتھ ہل رہا تھا گویا آپ آقائے دوعالم کی مدح میں لکھے گئے اس شعر سے اپنے اوپر دم کررہے تھے
ترک جان ترک مال ترک سر درطریق عشق اول منزل است
علماء کیلئے خصوصا عوام کیلئے عموما یہ شرح نفع بخش ہے اکثر طلبۃ العلو م فراغت کے بعد درس وتدریس کے مشغلہ کے بجائے دوسرے فنون وکاروبار میں مصروفیت ہورہے ہیں ان کیلئے یہ شرح نہایت مفید ہوگی ۔
حضرت نے اس شرح میں زبر دست نصیحت کی باتیں ،تزکیہ نفس ،تصفیہ ء قلب ،تجلی روح کے رہنمایانا ارشادات تحریر فرمایا ہے بعض اہم قواعد کو بار بار اعادہ ذہنی ویاد دہانی کے لئے دہرایا ہے آپ اکثر فرماتے تھے اذا کرّر قرّر یعنی دہرانے سے پائداری ومضبوطی پیدا ہوتی ہے قصیدۃ بردۂ ایک جامع قصیدۃ ہے گویا بصورتِ ابیات حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کے پور ی سیرت مبارکہ کا اجمالی خلاصہ ہے حضرت نے ہر شعر میں ایک نئی بات بتائی ہے ۔
مثلا حضرت نے یہ شعر :
ولاتزودت قبل الموت نافلۃ ولم أصل سوی فرض ولم أصم
کے تحت تشریح فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں اور میں نے موت سے پہلے نوافلوں سے توشہ تیار نہیں کیا ،او رفرض کے سوا نہ کوئی نماز پڑھا او رنہ روزہ رکھا ۔
ناظم ہمام یہ تواضع وانکساری ہے کہ وہ مرتبہ تقرب میں ہوتے ہوئے بھے خود کو کمتر سمجھتے ہیں او ربزرگوں کا طریقۂ ادب ہے کہ وہ مرتبہ تقرب میں ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ متواضع رہتے ہیں آخرت کے توشہ کی متعدد انواع ہیں ، فرائض کسی بھی مسلمان سے چھوٹ نہیں سکتے اس کو کرناہی کرنا ہے اس کے بعد نوافل کے توشہ اس سے انسان کو تقرب حاصل ہوتا ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث شریف ہے :وماتقرب إلیّ عبدی بشیء احبّ إلیّ مما افترضت علیہ ،ومایزال عبدی یتقرب الیّ بالنوافل حتی احبّہ
ترجمہ : فرائض سے بڑھ کر کوئی محبوب چیز نہیں جس سے بندہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے، او روہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتاہوں (بخاری)صاحب قصیدۃ پر خشیت الٰہی کا غلبہ ہے او رعشق محمدی فروزاں ہے اس کیفیت میں خود کو کمتر سمجھ کر کہہ رہے ہیں کہ میں نے اپنی اس عمر میں اعمال صالحہ کی جسقدر ضرورت تھی اسکا اہتمام نہیں کیا یہ ان کی تواضع او ربزرگانہ صفات ہیں درحقیقت وہ مرتبہ تقرب میں مقام اقربیت پر فائز ہیں ۔
اس طرح حضرت کی اس پوری تصنیف میں ایک نئی کیفیت ،نیاانداز ،نئی شرح ،نئی لذت ملتی ہے إن شاء اللہ جب جب اس شرح کوپڑھئینگے ایک نئی بات معلوم ہوگی نئی لذت ملیگی نیا فیضان کھلے گا ۔
زندگی کا مقصد بتاتے ہوئے آگے علامہ اقبال کا شعر لکھتے ہیں :
زندگی آمد برائے بندگی زندگی بے بندگی شرمندگی
اس طرح حضرت کی لکھی ہوئی شرح ایک جامع حیثیت رکھتی ہے إلٰہی ہم سب کو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے فیوض برکات سے مالامال فرما .آمین بجاہ طہ ویٰس ۔

أحاسیسْ قلبیۃ فی مدحِِ شیخ الحدیث بالجامعۃ النظامیۃ رحمہ اللہ
أبیات قرضہا الدکتور الحافظ محمد شبیر أحمد
استاذ ونائب شیخ التجوید بالجامعۃ النظامیۃ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.