حضرت شیخ الحدیث بحیثیت مترجم زجاجہ

الحمد لله رب العالمین، والصلوة والسلام علی سیدالمرسلین، وآله الطیبین الطاهرین وأصحابه الأكرمین الأ فضلین والتابعین لهم باحسان إلی یوم الدین ۔
اما بعد :

اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو اس غرض سے پیدا فرمایا کہ وہ خلقِ خدا کو ہرطرح سے فائدہ پہنچائیں ، خدا کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مخلوق کی خدمت کریں، علمی و عملی، مالی و فکری لیاقتوں سے دوسروں کو فیضیاب کریں اُن باکمال، فیض بخش ، خداترس اور بے لوث و مخلص بندوں میں استاذ گرامی قدر ،عمدۃ المحدثین، اشرف العلماء ،حضرت مولانا محمد خواجہ شریف صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ بھی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کو کئی ایک خوبیوں سے بہرہ اندوز فرمایا، آپ تمام علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے، ذخیرۂ احادیث کے شناور، فقہی نزاکتوں سے آشنا ، عربی زبان کی باریکیوں سے واقف اور علم بلاغت کے کمالات سے بہرہ یاب تھے،ملت اسلامیہ کے مصلح، دوراندیش ، مدبر، مفکر اور سیاسی اور عالمی حالات کے بہترین مبصر تھے، تمام علوم اسلامیہ کا ذوق رکھنے کے ساتھ خصوصی طور پر علم حدیث کا شغف رکھتے تھے، ہمدردی و غمگساری ، حلم و بردباری ، انکسار وعاجزی ، خیرخواہی و حق گوئی جیسی صفات آپ کی شخصیت میں نمایاں تھیں، صداقت و راست بازی کے خوگر اور لطافت و نفاست کے پیکر تھے ، مسائل میں دوسرں کے لیے رخصت تلاش کرتے تو خود عزیمت پر عامل تھے۔
حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ کو عربی زبان سے غیر معمولی تعلق اوراس میں اعلی درجہ کی مہارت حاصل تھی، اس کی علامت آپ کے قائم کردہ ادارہ ’’المعھد الدینی العربی‘‘ کا نام اور اس میں انجام دی جانے والی خدمات ہیں، آپ کے عربی قصائد کا مجموعہ اس کی دلیل ہے ، عربی زبان میں لکھے گئے آپ کے مضامین اسی کے آثار ہیں اور عرب مہمانوں سے آپ کی بے تکان و برجستہ گفتگو اس کی گواہ ہے۔
حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ کی خدمات ویسے ہر میدان میں اور وسیع پیمانہ پر ہیں ؛ لیکن ہمارا موضوعِ سخن فن ترجمہ ہے۔
ترجمہ بطور خاص عربی سے کسی اور زبان میں ترجمہ قرآنی مطلوب ومقصود ہے کیونکہ قرآن کریم تمام انسانوں سے خطاب کرتا ہے جبکہ دنیا کی تمام اقوام مختلف زبانیں بولتی ہیں اور سارے انسانی افراد عربی زبان نہیں جانتے ، قرآنی پیغام ترجمہ ہی کے واسطہ دوسری زبان میں منتقل ہوکر اُن لوگوں تک پہنچتا ہے جو عربی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔
کسی زبان کے ترجمہ کی اہمیت وافادیت حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ سنن ابوداوٗد میں روایت ہے: عن خارجۃ بن زید بن ثابت قال قال زید بن ثابت امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتعلمت لہ کتاب یھود وقال انی واللہ ما آمن یھود علی کتابی فتعلمتہ فلم یمر بی الا نصف شھرحتی حذقتہ فکنت اکتب لہ اذا کتب واقرأ لہ اذا کتب الیہ۔
ترجمہ: حضرت خارجہ بن زید سے روایت ہے، فرمایا: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (یہودیوں کی زبان سیکھنے کا)حکم فرمایا تو میں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہودیوں کی تحریری زبان سیکھ لی اور ( انھوں نے تفصیل بتائی کہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میرے خطوط لکھنے سے متعلق میں یہودیوں پر اعتبار نہیں کرتا، تو میں نے اُسے اس طرح سیکھا کہ پندرہ دن نہیں گزرے کہ اُس زبان میں ماہر ہوگیا، پھر میں آپ کے لیے لکھتا جب آپ لکھنے کا حکم فرماتے اور آپ کی خدمت میں پڑھتا جب کوئی خط آپ کو بھیجا جاتا۔ ( سنن ابوداوٗد ، کتاب العلم ، باب روایۃ حدیث اہل الکتاب ، حدیث نمبر: 3645)
کسی بھی ترجمہ کے لیے مترجم کا دونوں زبانوں میں ماہر ہونا نہایت ضروری ہے، جس زبان سے ترجمہ کیا جارہا ہے اور جس زبان میں کیا جارہا ہے ، مترجم ترجمہ کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے جب کہ وہ الفاظ کاذخیرہ رکھنے کے علاوہ زبان کی تعبیروں اور محاوروں سے واقف ہو ، زبان کی نزاکت کو سمجھتا ہو، زبان کی اصطلاحات سے باخبر ہو اور مضمون کے ادبی، تہذیبی ، تاریخی اور نظریاتی پس منظر کو جانتا ہو، ورنہ ترجمہ میں غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے، مترجم کی ذمہ داری اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کسی استعارے یا محاورے کے ترجمہ کا موقع ہو یا عبارت میں مشترک یا متقارب المعنی الفاظ ہوں۔
حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ عربی و اردو کے بہترین انشاء پرداز‘ بلند پایہ ادیب‘ اعلیٰ درجہ کے شاعر‘ نکتہ سنج مصنف ہونے کے ساتھ دونوں زبانوں کے عظیم ترجمہ نگار تھے۔
ان سب خوبیوں کے ساتھ ترجمہ کے کام میں دلچسپی رکھنا غیر معمولی ہے، اس لیے کہ جو شخص تصنیف و تالیف کرتا ہے یا شعرکہتاہے اس کی تحریرات و نگارشات اس کی طبع زاد ہوتی ہیں، اس کے اشعار اسی کی فکری تخلیق ہوتے ہیں جس میں وہ آزاد ہوتا ہے،اس کے بر خلاف کوئی مترجم‘ صاحب تحریر کی فکر کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اس لیے وہ صاحب تحریر کی فکر کا پابند ہوجاتا ہے ، پھر جب ترجمہ قرآن و حدیث کا ہو تو مترجم کی ذمہ داری دوبالا ہوتی ہے کیونکہ اس وقت نفس عبارت کے ساتھ اس سے متعلقہ شرعی مسائل ، مسائل کی نوعیت ، شرعی اصطلاحات ، توحید و رسالت کے آداب اور کئی امور کا لحاظ لازمی ہوتاہے ، حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ کی ترجمہ کی ہوئی کتب و مضامین میں مشہور ترین ترجمہ ’’ زبدۃ المحدثین حضرت ابوالحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق تالیف زجاجۃ المصابیح کا اردو ترجمہ نور المصابیح ‘‘ہے۔
زجاجۃ المصابیح کی ضخیم پانچ جلدوں میں سے ابتدائی پونے دو جلدوں کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا حاجی منیر الدین صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ سابق شیخ الادب جامعہ نظامیہ و خطیب مکہ مسجد نے کیا، یہ ترجمہ زجاجۃالمصابیح کی پہلی جلد کے آغاز سے دوسری جلد کے کتاب النکاح کے اختتام تک آٹھ جلدوں میں ہے۔
حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجہ کی دوسری جلد کے کتاب العتق سے پانچویں جلد ختم تک یعنی جملہ سوّا تین جلدوں کا ترجمہ چودہ جلدوں میں کیا، حضرت شیخ الحدیث کی دیگر تمام مصروفیات کے باوجود ترجمہ کا یہ عظیم کام پایۂ تکمیل کو پہنچا جیسا کہ حضرت نے بائیسویں جلد کے عرض مترجم میں لکھا:
’’فقیر کو جامعہ نظامیہ اور کلیۃ البنات میں مسلسل تدریس اور جامعہ کے شعبۂ تحقیق اور تالیف و تصنیف ، تحریر و تقریر کی شب و روز کی مصروفیت و ذمہ داری کے باوجود زجاجۃ کے اس عظیم کام کی تکمیل محض فضل الٰہی اور توفیق یزدانی ہے۔( نور المصابیح ،ج ۲۲ عرض مترجم ،ط)
یہ ترجمہ نہایت اہمیت کا حامل‘ خصوصیات سے متصف اور مترجم کی خوبیوں کا آئینہ دار ہے، زجاجہ کے ترجمہ نور المصابیح کی خوبیوں کا بیان خودحضرت مترجم کے قلم حق رقم سے ملاحظہ کریں:
’’ترجمہ میں جن امور کو پیش نظر رکھا گیا ہے ان میں سے یہ ہیں:
۱) ترجمہ سلیس اور سب کے لیے قابل فہم ہو۔
۲) اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ عربی کا کوئی لفظ ترجمہ میں چھوٹنے نہ پائے اورعلمی اصطلاحات کا ترجمہ قریب الفہم اور بامحاورہ ہو‘‘۔( نور المصابیح ، ج ۹، عرض مترجم)۔
حدیثی و فقہی اصطلاحات سے ناواقفیت کی وجہ سے ان اصطلاحات کے لفظی ترجمہ کے باعث عام قاری کو غلط فہمی ہوتی ہے، حضرت نے عام قاری کو غلط فہمی سے بچانے کے لیے اصطلاحات کا ترجمہ اس انداز میں کیا کہ ترجمہ بھی ہوجائے اور غلط فہمی بھی پیدا نہ ہو، اس خصوصیت کو حضرت نے یوں بیان فرمایا:
’’بعض ایسے عربی الفاظ و اصطلاحات جس کا لفظی ترجمہ صحیح مفہوم ظاہر نہ کر سکتا ہو بلکہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے مثلاً لیس بصحیح ( یہ حدیث صحیح نہیں ہے) کوئی عام قاری صحیح کو غلط کے مقابل میں نہ سمجھے، اسی طرح حدیث ضعیف سے کوئی فی نفسہ حدیث کو ضعیف نہ سمجھ بیٹھے، شروطِ صحتِ ارتداد سے یہ نہ سمجھے کہ ارتداد بھی صحیح ہوسکتا ہے اس لیے ایسے تمام مقامات میں اس کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ ’’ یہ حدیث مرتبہ صحت میں نہیں ہے‘‘، یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے‘‘، ’’ثبوتِ ارتداد کے یہ شروط ہیں‘‘۔
ایسے تمام مقامات میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ یہ اپنے پورے صحیح مفہوم کو ظاہر کرنے کے ساتھ کسی ہونے والی غلط فہمی کو بھی دور کرے‘‘۔( نورالمصابیح، ج ۹، عرض مترجم)
حضرت شیخ الحدیث رحمۃاللہ علیہ کے ترجمہ کی خوبیوں کو بیان کرنے کے لیے یہاں ہم نور المصابیح سے چند نظائر پیش کرتے ہیں جس سے ترجمہ کی اہمیت و خصوصیت اور حضرت مترجم کی کمالِ مہارت آشکار ہوتی ہے۔
میری وجہ سے اس کو مشقت پہنچی
قرآن کریم کی ایک آیت کی کئی تفاسیر ہوتی ہیں اسی طرح حدیث پاک کی ایک روایت کے متعدد معانی ہوتے ہیں، لہٰذا ترجمہ کے وقت مترجم کا انتخاب و میلان اور اختیار و رجحان طے کرتا ہے کہ کونسی تفسیر اور کس معنیٰ کے لحاظ سے ترجمہ کیاجائے۔
پہلی وحی سے متعلق طویل حدیث پاک میں مذکورہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں موجود تھے، آپ کی خدمت اقدس میں فرشتہ حاضر ہوا ، اور عرض کیا پڑھئے! تو آپ نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ۔ اس کے بعد حدیث پاک میں یہ کلمات مذکور ہیں: ’’قال فأخذنی فغطنی حتی بلغ منی الجھد‘‘ شارحین نے لفظ الجھد کے دال کو زبر کے ساتھ اور پیش کے ساتھ بتایا ہے، دال کو زبر کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جبرئیل علیہ السلام مشقت کو پہنچے یعنی تھک گئے اور پیش پڑھنے کی صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ مجھے مشقت پہنچی، حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ نے زبر والی صورت کو اختیار کیا اور یوں ترجمہ کیا ’’ اور فرمایا: تو اُس نے مجھے پکڑا اور دبایا یہاں تک کہ میری وجہ سے اُس کو مشقت پہونچی‘‘۔ ( نور المصابیح ج ۹ا، ص ۷)
اس ترجمہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان معلوم ہوتی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام جن کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ اپنے ایک پر
کے ذریعہ ایک بستی کو آسمان کے قریب تک اُٹھا کر پلٹ دیتے ہیں لیکن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کرنے کے لیے دبایا اور مکمل قوت کے ساتھ دبایا، یہاں تک کہ تھک گئے، تین مرتبہ اسی طاقت سے دبایا لیکن متوجہ نہیں ہوئے لیکن جب رب کے نام سے متوجہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی۔
کتب علیکم القصاص کا معنیٰ خیز ترجمہ
آیت قصاص (یا ایھاالذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی )کا ترجمہ عموماً یہ کیا جاتا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر مقتول کے خون ناحق کا قصاص فرض کیا گیا۔ (سورۃ البقرۃ: 178) لیکن حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ نے اس آیت کا ترجمہ یوں فرمایا: اے ایمان والو! تم پر (ناحق) قتل کئے جانے والوں کے بارے میں قصاص یعنی جان کے بدلہ جان لینا مقرر کر دیا گیا ہے۔(نور المصابیح ، ج ۹ ص۹۴)
’’فرض کیا گیا‘‘ کے بجائے ’’ مقرر کیا گیا‘‘ رقم فرمایا، لفظ ’’کُتِبَ‘‘ میں فرض کرنے اور مقرر کرنے دونوں کی گنجائش ہے، فرض ایسا عمل ہوتا ہے جس کو انجام دینا ضروری اور چھوڑنا‘ حرام ہے جبکہ قصاص لینا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کا ترک حرام ہے بلکہ مقتول کے اولیاء کو اختیار ہے:
۱) جان کا بدلہ جان یعنی قصاص طلب کریں
۲) قاتل سے دیت پرصلح کریں
۳) قاتل کو معاف کردیں
جب قصاص کے علاوہ احادیث مبارکہ میں دیت پر صلح اور معاف کرنے کی صورتیں مذکورہیں تو پھر کتب علیکم القصاص کا ترجمہ ’’ فرض کیا گیا‘‘ کرنے کی وجہ سے احادیث سے اشکال پیدا ہوتا ہے اور آیت وحدیث کے درمیان بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے ، حضرت شیخ الحدیث نے اس کا ترجمہ ’’مقرر کر دیا گیا‘‘ کر کے اس اشکال و تعارض کو رفع کر دیا۔
عصمتِ انبیاء اور مفہومِ مغفرت
تمام انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام معصوم ہیں، ان حضرات قدسیہ سے گناہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان کے اور گناہ کے درمیان عصمت کی خدائی دیوار حائل و مانع ہے ، قرآن کریم و حدیث شریف میں جہاں ’’ذنب‘‘ (گناہ) یا مغفرت (بخشش) کے کلمات حضرات انبیاء کے حق میں آتے ہیں وہاں مفسرین وشارحین عصمتِ انبیاء ملحوظ رکھ کر ذنب کا معنیٰ خلافِ اولیٰ عمل یا امت کے گناہ مرادلیتے ہیں، اس طرح مغفرت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اولیٰ اعمال کو معاف کردیا ‘ یا امت کے گناہ معاف فرمادیا، حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وارد کلمہ یَغْفِرُ کا جو ترجمہ کیا ہے اُس سے فنِ ترجمہ میں آپ کی مہارت ظاہر ہوتی ہے اور ذات رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جھلکتی ہے، فضائلِ انصار سے متعلق صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ طویل حدیث میں انصار کا یہ جملہ مذکور ہے: ’’یغفراللہ لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ نے اس جملہ کا کیا شان والا ترجمہ فرمایا: اللہ ‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند کرے۔ ( نور المصابیح، جدید ایڈیشن، ج 12،ص 180)۔
حضرت شیخ الحدیث کا مذکورہ ترجمہ اپنے اندر اس قدر وقیع معنویت رکھتا ہے کہ اگر کسی کے حق میں مغفرت کی دعاء کی جائے اور بخشش کا مرحلہ گزرچکا ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعاء کی وجہ سے درجات بلند فرماتا ہے، چونکہ حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عصمت کی وجہ سے بخشش کا مرحلہ ہے ہی نہیں، تو آپ کے حق میں مغفرت کا مفہوم رفعِ درجات اور عظمتِ شان مراد ہوگی۔
انبیاء و شہداء ان کی تعریف کریں گے
زجاجۃ المصابیح میں صالحین و اولیاء سے متعلق حدیث قدسی ہے: ’’یقول اللہ تعالیٰ المتحابون فی جلالی لھم منابر من نور یغبطھم النبیون والشھداء‘‘۔ جس کا ترجمہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے کیا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عظمت و جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے لوگ اُن کے لیے نور کے منبر ہیں ، انبیاء و شہداء ان کی تعریف کریں گے۔ (نور المصابیح جدید ایڈیشن، ج9، ص 153)
’’یَغْبِطُ‘‘ کا ترجمہ رشک سے کیا جاتا ہے؛ جس کا مطلب ہے کسی کی خوبی کو دیکھ کر یہ تمنّا کرنا کہ مجھے بھی ایسی خوبی حاصل ہوجاتی،لیکن یہاں یہ ترجمہ درست نہیں ؛ کیونکہ انبیاء کرام کے درجات غیرِ نبی (اولیاء وصالحین) سے بہت بلند واعلیٰ ہیں ، پھر انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کے اولیاء و صلحاء کے مقامات پر رشک کرنے کا کیا معنیٰ؟ حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ نے اس کا ترجمہ کیا کہ ’’ انبیاء و شہداء اُن کی تعریف کریں گے‘‘ لغت اس ترجمہ کی تائید و مساعدت کرتی ہے ؛ کیونکہ ’’یَغْبِطُ‘‘ میں تعریف کے معنیٰ کی گنجائش موجود ہے، اس ترجمہ سے مذکورہ اشکال خود بخود دو ر ہوجاتا ہے۔
حضرت شیخ الحدیث رحمۃاللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح کے ترجمہ نور المصابیح کے علاوہ حضرت شیخ الاسلام امام اہل سنت مجددِ دین و ملت امام محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ بانی جامعہ نظامیہ کی انوکھی کتاب ’’ الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع‘‘ کا عربی
ترجمہ کیا ، سیرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اردو ترجمہ کیا۔
حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ زود قلم اور کثیر الکتابۃ شخصیت تھے ، قلم برداشتہ اور بلا تکلف لکھتے تھے، آپ نے خاندان کے افراد میں درس نظامی کی رغبت و دلچسپی پیدا کی اور ان کی تدریس کی تیاری کے لیے روزانہ سبق کا تحت اللفظ ترجمہ لکھتے تھے، یہ سلسلہ سالہا سال چلتا رہا، یوں آپ نے درس نظامی کی کئی ایک کتابوں کا ترجمہ فرمایا، قصیدۂ بردہ شریف کا ترجمہ مع شرح کیا، صحیح بخاری کی ابتدائی احادیث مبارکہ کا ترجمہ مع شرح کیا، خاندان کے تقریباً ہر فرد کی شادی کے موقع پر اور ان گنت شاگردوں کے نکاح کی مناسبت سے سہرے لکھے، اور پھر ان عربی قصائد کا اردو ترجمہ کیا، اس طرح آپ نے اپنے سینکڑوں عربی قصائد کا ترجمہ فرمایا۔
وصال سے دس دن قبل فضائلِ مدینہ طیبہ سے متعلق استاذنی صاحبہ حفظھااللہ تعالیٰ و رعاھا کے اردو مضمون کا عربی ترجمہ فرما چکے تھے ، اس کی پروف ریڈنگ باقی تھی۔
اللہ تعالیٰ آپ کی تمام خدمات بشمول خدمتِ ترجمہ کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ کے علم سے فیضیاب فرمائے۔
صلی اللہ تعالیٰ و بارک و سلم علی خیر خلقہ و اٰلہ وصحبہ اجمعین

حضرت شیخ الحدیث بحیثیت مترجم زجاجہ
حضرت مولانا سید واحد علی قادری حفظہ اللہ
نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.